tumhara baap dollar nahi kamata

"تمہارا باپ ڈالر نہیں کماتا"
"پیسے درختوں پر اگتے ہیں کیا" "اتنی مہنگی چیز ہم افورڈ نہیں کر سکتے" یہ وہ چند جملے ہیں جو اکثر بے دھیانی میں مائیں اپنے بچوں سے بول دیتی ہیں جب انکے بچے کچھ بھی آؤٹ آف بجٹ کرنا چاہتے ہیں۔ بچے لا شعوری طور پر اسکا اثر لیتے ہیں۔۔۔وہ یہ نہیں سیکھ پاتے کہ انکے پاس کوئی چیز اسلئے ہے کہ انھیں اسکی ضرورت تھی یااسلئے کہ وہ انکے ماں باپ کے بجٹ میں تھی سو لے دی۔۔۔ ماؤں کا غلط رویّہ بچوں کی غلط تربیت کی بنیاد رکھتا ہے۔۔۔ہمیں اپنے بچوں کو ہمیشہ اس قببل بنانا چاہئے کہ وہ "کیوں" کا جواب ڈھونڈ سکیں۔۔۔انھیں اس بات کا اظہار کرنا آنا چاہئے کہ انھیں ایک چیز "کیوں" چاہئے۔۔۔وہ چیز انکی دلچسپی بڑھائے گی یا کسی کام میں انھیں آسانی دے گی یا پھر وہ چیز انھیں اس لئے چاہئے کہ بنکے دوستوں کے پاس وہ چیز موجود ہے۔۔۔۔بالکل یہی معاملہ انٹرٹینمنٹ کا ہے۔۔۔بچوں کو ضرور معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ٹی وی پر کیا اور کیوں دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔گلی یا چھت پر کیوں کھیلنا چاہتے ہیں۔پکنک یا سٹڈی ٹوور پر کیوں جا نا چاہتے ہیں ۔اس کیوں کا جواب انھیں ضرورت اور سہولت میں فرق سکھائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

Book of deeds - Actual success here and hereafter

Being good to home mates is truly difficult task